ساحر لدھیانوی: تلخیاں سمیٹتا شاعر

| Updated at December 29th, 2016 at 11:07 am,
0
23
ساحر مبلغ تھے نہ مصلحت پسند، مگر ان کے اندر اپنے ماحول کے خلاف بغاوت کا جذبہ موجود تھا۔
1 of 7

سید مہدی بخاری

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

پل دو پل مری کہانی ہے

پل دو پل میری ہستی ہے

پل دو پل مری جوانی ہے

مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے

اور آ کر چلے گئے

کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے

کچھ نغمے گا کر چلے گئے

وہ بھی اک پل کا قصہ تھے

میں بھی اک پل کا قصہ ہوں

کل تم سے جدا ہو جاؤں گا

گو آج تمہارا حصہ ہوں

کل اور آئیں گے نغموں کی

کھلتی کلیاں چننے والے

مجھ سے بہتر کہنے والے

تم سے بہتر سننے والے

کل کوئی مجھ کو یاد کرے

کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے

مصروف زمانہ میرے لیے

کیوں وقت اپنا برباد کرے

ساحر لدھیانوی پر کبھی نوجوانوں کا شاعر تو کبھی فلمی شاعر جیسے لیبل لگا کر ان کی ادبی صلاحیتیوں سے انکار کی کوشش کی گئی مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ کارِ زیاں نہیں تھا۔

Read More…

1 of 7