اصغر گونڈوی کی غزلوں میں فلسفہ و تصوف

0
517
Asghar Gondvi

اصغر گونڈوی کا شمار جدید غزل کے معماروں میں ہوتا ہے۔ اردو غزل پر بیسویں صدی کے اوائل میں جب بپتا پڑی اوراسے گردن زدنی قرار دیا گیا تو اس میں ایک نئی جان پھونکنے کے ساتھ ہی ساتھ اس کی عظمت کو برقرار رکھنے میں، جن لوگوں نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں اصغر کا نام سرِفہرست ہے۔ اصغر کے علاوہ اس کام میں حسرت موہانی، فانی بدایونی، اقبال سہیل اور جگرمرادآبادی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان لوگوں نے جدید غزل کو وقت کے ساتھ چلنے کا ہنر بخشا۔ اصغر کی غزلوں کی سب سے بڑی خوبی اخلاق کی بلندی ہے۔

ان کی شاعری نے اور کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن ہم کو شریف انسان بنانے کی جو کوشش ان کے یہاں ملتی ہے، کسی دوسرے شاعر کے یہاں مشکل سے ہی ملے گی۔
اصغرگونڈوی یکم مارچ ۱۸۴۸ء کوگورکھپور کے محلے الٰہی باغ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصلی نام اصغر حسین تھا۔ ان کے والد مولوی تفضل حسین قانون گو تھے۔ لہٰذا جب ان کا تبادلہ گورکھپور سے گونڈہ ہوا تو ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ گونڈہ چلے آئے۔ اصغر کی ابتدائی تعلیم گونڈہ ہی میں ہوئی۔ انہوں نے۱۸۹۸ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور یہیں سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اصغر نے اپنی تعلیم کسی طرح انٹرنس تک جاری رکھی مگر اس کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ذاتی مطالعے کی بنا پر اچھی خاصی قابلیت پیدا کرلی تھی۔

مزید پڑھنے کےلئے کلک کیجیئے۔۔۔۔