اردو کے مشہور و مقبول مصنف،ناقد،ادیب داکٹر نیر مسعود کا لکھنو میں طویل علالت کے بعد انتقال

0
957

لکھنو؛ اردو کے مشہور و مقبول ادیب و نقاد ۔مصنف ڈاکٹر نیر مسعود کا آج طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ نیر مسعود طویل عرصے سے بیمار تھے اور صاحب فراش تھے۔

اردو ادب کو انکے انتقال سے بڑا خسارہ ہوا ہے اس خلا کا پر ہونا مشکل ہے۔
ڈاکٹر نیر مسعود لکھنو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر بھی رہ چکے ہیں اور انہکے انڈر میں لا تعداد طلبا و طالبات نے تحقیقی کام انجام دیئے۔ ڈاکٹر نیر مسعود درجنون کتابوں کے مصنف تھے اور انکی متعدد کتابوں کے اسلوب اور واقعہ نگاری کو بے پناہ پسند کیا گیا۔
طاوس چمن کی مینا، گنجیفہ،میر انیس، مرثیہ خوانی کا فن، ،عطر کافور،تعمیر غالب، و دیگر کتابوں کے علاوہ سیکڑوں مضامین سے انکی شخصیت نکھری۔

ڈاکٹر نیر مسعود کے والد مسعود حسن ادیب اپنے وقت کے خود بلند پایہ مصنف اور صاحب قلم تھے۔ انکے گھر کا نام اسیلئے ادبستان رکھا گیا،انکے خانوادے کے زیادہ تر افراد صاحب قلم ہیں۔
ڈاکٹر نیر مسعود کے ایک بیٹے تمثال مسعود خود بی اردو میں ڈاکٹریٹ حاصل کر چکے ہیں اور امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم دے رہے ہیں۔