لکھنو کے ایک مدرسہ میں جنسی الزام کے بعد منیجر کو جیل

0
31

لکھنؤ: طالبات سے استحصال، ملزم مدرسہ مینیجر گرفتاراترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے سعادت گنج علاقے کے ایک مدرسے کی طالبات کا جنسی استحصا ل کرنے کے الزام میں مینیجر کو گرفتار کرلیاگیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ (مغربی)وکاس چند تریپاٹھی نے بتایا کہ مدرسے میں 125طالبات پڑھتی ہیں۔طالبات نے اپنے گارجین سے منتظم کے ذریعہ پریشان کرنے اور فحش حرکتیں کرنے جیسی شکایت کی تھی۔اس سلسلے میں طالبات نے کھڑکی سے باہر ایک خط بھی پھینکا تھا۔افسر نے بتایا کہ طالبات کی شکایت پر بعد یاسین گنج جامعہ خدیجۃ الکبری البنات مدرسے پر چھاپہ مارکر 51 طالبات کو وہاں سے نکالاگیا۔مدرسے کے منتظم قاری طیب ضیاء کو گرفتار کرلیا گیا۔

اندرا نگر لکھنؤ میں اے بلاک کے رہائشی سید محمد جیلانی اشرف عالم ہیں اور انہوں نے کافی وقت پہلے سعادت گنج کے یاسین گنج میں 1660 مربع فٹ کا پلاٹ خریدا تھا جس میں انہوں نے مدرسہ کا قیام کیا۔ سید محمد جیلانی کے مطابق انہوں نے مدرسہ کی دیکھ بھال اور اسے چلانے کی ذمہ داری یاسین گنج کے رہائشی قاری طیب ضیاء کو سونپ دی۔ کچھ وقت بعد طیب ضیاء نے مدرسہ کو گرلز ہاسٹل میں تبدیل کر دیا۔ سید محمد جیلانی نے بتایا کہ قاری طیب ضیاء مدرسہ میں اپنی من مرضی کرنے لگا اور مخالفت کرنے پر وہ انہیں دھمکی دیتا تھا۔

مدرسہ سے آزاد کرائی گئی بچیاں اطلاعات کے مطابق جمعہ کی دوپہر کو ہاسٹل میں رہنے والی کچھ طالبات نے مدرسہ کی کھڑکیوں سے خط اور پرچے پھینکے جن پر لکھا تھا کہ منتظم نے ہمیں اغوا کیا ہوا ہے ۔ وہ ہمارے ساتھ چھیڑ خانی کرتا ہے اور احتجاج کرنے پر غیر انسانی برتاو کرتا ہے۔ متاثرہ طالبات نے ان پرچوں کے ذریعہ مقامی لوگوں سے گہار لگائی تھی کہ ان کی بات پولس تک پہنچا کر ان کی مدد کی جائے۔ پرچہ دیکھ کر مقامی لوگ پریشان ہو گئے اور فوراً اطلاع مدرسہ کے مالک سید محمد جیلانی اشرف کو دی۔ اطلاع ملنے کے ساتھ ہی سید محمد جیلانی مدرسہ پہنچے تو طالبات اندر تھیں اور باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ جیلانی نے اس کی شکایت سعادت گنج پولس سے کی۔ معاملہ میں کارروائی کرتے ہویئیے ایس ایس پی دیپک کمار نے ضلع انتظامیہ، اقلیتی کمیشن و چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے افسران کو اس معاملہ کی معلومات دی گئی۔ پولس کی قیادت میں چائلڈ ویلفیر کمیٹی کی ٹیم نے چھاپہ مارا اور اغوا رکھی گئی 51 لڑکیوں کو آزاد کرایا۔سی او بازار خلاء انیل کمار یادو نے بتایا کہ اس معاملہ میں دو مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پہلا مقدمہ متاثرہ طالبات کی تحریر پر طیب ضیاء اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے جس میں چھیڑ خانی، اغوا کر کے رکھنے ، مار پیٹ اور پوسکو قانون کی دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ وہیں دوسرا مقدمہ سید محمد جیلانی کی تحریر پر کیا جا رہا ہے۔ جس میں قاری طیب ضیاء کو دھوکا دہی کا ملزم بنایا گیا ہے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے طالبات کے بیان درج کر لئے ہیں اور اس بنیاد پر دفعات بڑھائی بھی جا سکتی ہیں۔سعادت گنج پولس نے ملزم طیب ضیاء کو عدالت میں پیش کر دیا جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

Facebook Comments