جد و جہد سے چوٹی تک پہنچے این ڈی اے کے صدارتی امیدوار، سنیں گاؤں والوں کی زبانی كوند کی کہانی

0
271

کانپور دیہات: ایک عام انسان محنت کے بل پر کہاں تک پہنچ سکتا ہے اس کی جیتی جگتی مثال ہیں رام ناتھ كوند. بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد جیسے ہی كوند نام صدر کے لئے اعلان ہوا ان کے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. کانپور دیہات کے لوگ اس طرح سے منا رہے ہیں جیسے کوئی تہوار ہو.

ramnath kovind

یاد رہے کہ رام ناتھ كوند کانپور دیہات کے پروكھ گاؤں کے رہنے والے ہیں. گاؤں والے بتاتے ہیں کہ رام ناتھ كوند کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا. لیکن ان کے اندر کی لگن نے انہیں آج اس مقام تک پہنچا دیا. واضح رہے کہ كوند خاندان اب دہلی میں رہتا ہے لیکن انہوں نے اپنے آبائی گھر ملن مرکز بنا کر گاؤں والوں کے حوالے کر دیا.

ramnath kovind

مفلسی میں گزرا بچپن
کانپور دیہات کے ڈیراپور بلاک کے چھوٹے سے گاؤں پروكھ میں رام ناتھ كوند کی پیدائش 01 اکتوبر 1954 کو ہوئی تھی. رام ناتھ کے والد میكولال ایک چھوٹے سے مندر میں پجاری تھے. ان کے پانچ بیٹوں میں رام ناتھ سب سے چھوٹے ہیں. خاندان کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی.

ایسے ہوئی تعلیم و تربیت
كوود کے بچپن کے دوست وریندر سنگھ نے بتایا، کہ رام ناتھ نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری اسکول میں ہی حاصل کی. تب پرائمری اسکول کے گھر نہیں بنا تھا. لیکن یہیں پاس کے چبوترے پر ماسٹر جی پڑھایا کرتے تھے. 5 ویں پاس کرنے کے بعد رام ناتھ 8 کلومیٹر دور پرياگ پور دلول میں کلاس 8 تک کی تعلیم حاصل کی. اس کے بعد آگے کی تعلیم کے لئے وہ کانپور چلے گئے. وہیں سے انٹر کا امتحان پاس کیا. اس کے بعد پارٹ ٹائم کام کرکے انہوں نے نے کانپور بيےنےسڈي ڈگری کالج سے گریجویشن کیا. پھر اعلی تعلیم کے لئے دہلی چلے گئے. وہیں سے لاء کی تعلیم حاصل کی اور سپریم کورٹ کے وکیل بنے.

ramnath kovind

ایسے سیاست میں رکھا قدم
رام ناتھ كوند کے سیاسی کیریئر کے آغاز دہلی سے شروع ہوا. رام ناتھ مرارجی دیسائی کے پی اے بھی رہے. بی جے پی کی اٹل بہاری واجپئی حکومت تک میں ان کا عہدہ بڑھتا چلا گیا. اس کے بعد وہ دو بار راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہوئے. اتنا ہی نہیں انہوں نے گھاٹم پور سے لوک سبھا کا الیکشن بھی لڑا، لیکن ہار گئے. اس کے بعد بھوگني پور اسمبلی سے بی جے پی کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات لڑے مگر وہاں بھی شکست ملی. بعد میں انہیں بہار کے گورنر کے عہدے کے لئے مقرر کیا گیا تھا.

آج جب گاؤں والوں کو ان کے صدر کے لئے نامزد کئے جانے کی خبر ملی تو خوشی کی لہر دوڑ گئی. گاؤں والوں نے مٹھائی بانٹ کر خوشی کا اظہار کیا.

اب بھی جڑے ہیں گاؤں سے
اس سلسلے میں دیہی سریش نے بتایا کہ وہ اکثر گاؤں آیا کرتے ہیں. انہوں نے پورے گاؤں میں آرسی سی روڈ بنوائی. وہی گاؤں کی لڑکیاں تعلیم کے لئے دور جانا پڑتا تھا اس لئے انہوں نے جھلكاري بائی انٹر کالج قائم کروائی. گاؤں والے بتاتے ہیں جب بھی ضرورت ہو رام ناتھ گاؤں کی ترقی کے لئے وہ ہمیشہ مطلب رہتے ہیں.