زبان سنبھال کے

0
467

اب شاید دوراہا، دو طرفہ، دوبار وغیرہ بھی اسی طرح لکھا جائے۔ کچھ تو اردو کی خبرایجنسیاں اپنا کمال دکھاتی ہیں اور کچھ نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہوئے ماہرین اور پھر پروف ریڈر صرفِ نظر کرتے ہیں۔ یہی کیا، بڑے معروف قلم کاروں اور ادیبوں کو مذبح خانہ اور مقتل گاہ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو چھپا بھی ہے۔ ان الفاظ میں خانہ اور گاہ غیر ضروری ہیں۔ مصالحہ اور مسالہ تو متنازع فیہ ہیں۔

اصل تو مصالحہ ہی ہے جس کا مطلب ہے ’اصلاح‘ کرنے والا۔ حکیموں اور ماہرین مطبخ نے طویل تجربے کے بعد ایسے مصالحے تیارکیے جو نہ صرف کھانے کی اصلاح کریں بلکہ ایک دوسرے کے نقصانات کا ازالہ بھی کریں۔ تاہم اب لوگوں نے سہولت کے لیے اسے ’مسالہ‘ کرلیا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بھی ٹھیک ہے کہ یہ چیزیں مسل کر ڈالی جاتی ہیں۔ مگر اب مسلنے اور پیسنے کا جھنجھٹ ہی ختم ہوتا جارہا ہے‘۔ اطہر ہاشمی کے کالموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں اردو کا معاملہ ہندوستان سے بھی گیا گزرا ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Facebook Comments