تسلیم الدین سیمانچل کے مسیحا

0
70
1 of 9

عابد انور

Abid Anwar

جد و جہداورجہدمسلسل سے انسان کامرانی کے اوج ثریا تک پہنچ سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں ہمارے سامنے ایک جیتی جاگتی مثال ہے سیمانچل کے گاندھی تسلیم الدین کی، جنہوں نے زندگی کے شدائد جھیلے مگر عزم ، حوصلہ اور قوت ارادی نے آج انہیں جو بلند بالا مقام عطا کیا ہے وہ نہ صرف قابل رشک ہے بلکہ ہمارے لئے ایک نشان راہ بھی ہے۔ وزارتی کونسل میں شامل وزیرمملکت برائے غذا اور شہری رسدات اور زراعت کے مرکزی وزیرمملکت، سابق وزیرمملکت داخلہ جناب تسلیم الدین ضلع ارریہ کے جوکی ہاٹ تھانہ کے گاؤں سسونا ۴ جنوری ۱۹۴۰ میں پیدا ہوئے اپنے سیاسی کیریرکی شروعات ۱۹۵۹ میں گرام پنچایت میں سرپنچ کی حیثیت سے کی اور ۱۹۶۴ میں مکھیا کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی

، ۱۹۶۹ میں پہلی بار کانگریس کے ٹکٹ پر بہار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ابتداء ہی سے عوامی حقوق کے لئے سرکاری افسران سے لڑتے رہے۔ جس کی وجہ سے انہیں سرکاری بابووں اور افسرشاہوں کی دشمنی مول لینی پڑی اور ان کی آنکھوں کا کانٹا بن گئے اور جب مسٹر تسلیم الدین ۱۹۹۶ میں بننے والی قومی محاذ حکومت میں پہلی بارمرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ بنے وزیرمملکت برائے داخلہ کاحلف لیتے ہی بابری مسجدکے ملزمین اور مجرمیں کو سزا دلانے کی بات اٹھانی شروع کردی اور اپنے بیان میں کہاکہ بابری مسجدکے مجرمین کوبخشا نہیں جائے گا تو مسٹر تسلیم الدین کا یہ بیان آتشیں دھماکہ ثابت ہوا جس نے سیاسی گلیارے میں ہلچل مچا دی، تسلیم الدین کو اس بیان کی قیمت وزارت کھوکر چکانی پڑی اور پوسٹ ماڈرن ہندو صحافی ارون شوری نے لایعنی اور بے بنیاد باتوں کو اخبارات کے ذریعہ ہوا دے کر ان کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا اور ان کی پرانی فائلوں سے لایعنی مقدمات کا حوالہ دے کر ان کی شخصیت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔

READ MORE

1 of 9