تسلیم الدین سیمانچل کے مسیحا

0
632

مسٹر تسلیم الدین پرجو مقدمہ قائم کئے گئے ہیں اورجن مقدمات کولے کربی جے پی جس کے ہاتھ معصوموں اور بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں249 واویلا مچارہی ہے ان کی نوعیت عام سی ہے سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں پر اس طرح کے درجنوں مقدمات ہوتے ہی رہے ہیں ۔مسٹرتسلیم پرقائم کئے گئے مقدمات کی ایسی ہی نوعیت ہے اور ان کاقصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے حکومت کے ان ظالم249 رشوت خور اور عوام کا خون چوسنے والے وزراء اور افسران کے خلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔احتجاج کرنے کی وجہ سے ان پرسرکاری افسران نے جھوٹے مقدمے قائم کئے۔ ان مقدمات کے حق میں ابھی تک نہ تو ثبوت پیش کئے گئے اور نہ ہی کسی معاملے پر فرد جرم عائدکیا گیا۔

تسلیم الدین کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ان مقدمات کا پس منظر اور نوعیت کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کی وجہ وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
پہلا مقدمہ ۱۹۸۲ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افسران کی بدعنوانی کے خلاف مسٹر تسلیم الدین کے احتجاج کرنے اور ارریہ بند کے دوران دفعہ ۱۴۴؍۱۸۸ کے تحت دائرکیا گیا جس میں ان کی گرفتاری ہوئی اور ضمانت پررہا ہوئے، یہ خالص سیاسی معاملہ تھا۔ دوسرا مقدمہ بھی ۱۹۸۲ میں ارریہ کے پلاسی بلاک کے ایک گاؤں پیرواخوری سے متعلق ہے وہاں ایک زمین دار کے اشارے پرمعمولی واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر اقلیتوں کی پوری بستی کو جلا کر راکھ کردیا گیا۔ جس میں بے گناہ ہندووں کو پھنسیایا گیا۔ اصل مجرموں کو پکڑنے اور بے گناہوں کو بری کرنے کے لئے متحدہ محاذ کے زیر اہتمام تسلیم صاحب کے زیر قیادت احتجاجی تحریک چلائی گئی جس میں کئی لیڈروں کے علاوہ سی پی ایم کے اس وقت کے ایم ایل اے جیت سرکار249 نچھتر مالاکار 249 سی پی آئی کے لال چند ساہنی249 لوک دل کے ادے بھانو رائے تھے۔

READ MORE