تسلیم الدین سیمانچل کے مسیحا

0
632

اس پروگرام میں کشن گنج کے نوجوانوں کا جوش، ولولہ اور امید قابل دیدتھی تو مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب کا جوش بھی کم نہ تھا اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے تھے’’ میری سیلری آپ کی سیلری ہوگی اور میرا بنگلہ آپ کا بنگلہ ہوگا‘‘ میں آپ کے لئے ہر وقت مہیا رہوں گا آپ کے لئے4 2 گھنٹے دروازے کھلے رہیں گے۔تسلیم صاحب کی ہار کی وجہ یہ بھی تھی کشن گنج حلقے کی ازسرنو حد بندی ہوئی تھی اور تسلیم صاحب کی ذات کے افراد کا بڑا حصہ ارریہ اور پورنیہ حلقے سے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔تسلیم الدین صاحب نے 2014میں واپسی کی اور پہلی بارارریہ پارلیمانی حلقہ سے منتخب ہوئے اور اس وقت منتخب ہوئے جب پورے ملک میں مودی لہر چل رہی تھی۔ ارریہ سے فتحیاب ہونے کے بعد وہ ترقیاتی کاموں اور خاص طور پر کشن گنج کے لئے فکر مند رہتے تھے۔وزارت جہاز رانی کے توسط سے مہانندہ ندی میں شپ چلانے کے لئے کوشاں تھے اورانہوں نے اس لئے پروجیکٹ پاس بھی کروالیاتھا۔ تسلیم الدین صاحب کیا تھے، کیسے تھے،؟ یہ زرخرید میڈیا یا فرقہ پرست جماعتوں اور ان کے زہریلے لیڈران سے جاننے کے بجائے براہ راست ان کے پارلیمانی حلقہ کے عوام سے رابطہ قائم کیا جائے وہی لوگ صحیح طور پر بتاسکتے ہیں کہ تسلیم الدین اصل میں کیا تھے؟ کیا وہ مجرم تھے، دہشت گردتھے، غنڈہ تھے یا عوام کے سچے مسیحا اور ہردلعزیز رہنما ۔
تسلیم الدین صاحب شوگر کے مریض تھے لیکن ان کی یاد داشت غضب کی تھی۔ جس کو بھی جانتے تھے پورے خاندان کے ساتھ جانتے تھے۔ علاقے کی چھوٹی بڑی سرگرمیوں سے اچھی طرح واقف تھے۔وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے ان کا انتقال 17ستمبر کو چنئی کے اپولو ہسپتال میں ہوگیا تھا اور19ستمبر کو لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی گاؤں سسونا میں سپرد خاک کیاگیا۔ ان کے جنازہ میں اتنی بھیڑ علاقے میں پہلی بار ہوئی تھی۔ سماج کے تمام طبقے افراد نے شرکت کی تھی یہ ان کی مقبولیت کی علامت تھی۔

عابد انور
ڈی۔ ۶۴ فلیٹ نمبر ۱۰ ابوالفصل انکلیو جامعہ نگر نئی دہلی ۔25
موبائل نمبر ۔ 9810372335,9891596593