بچوں کے تيماردار بولے- آکسیجن ختم ہونے پر بچے کو تڑپتا دیکھا

0
109

گورکھپور: جب سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا تو جمعہ کی شام موت کے بعد میڈیکل کالج کے ڈاکٹر اہل خانہ کو لاش سونپ کیوں نہیں رہے تھے؟ یہ سوال پورے میڈیکل کالج میں عام تھا. مرنے والوں کے لواحقین چیخ رہے تھے. ڈاکٹر کے پاؤں پکڑ رہے تھے، لیکن ان سے صرف یہی کہا جا رہا تھا کہ ابھی حکام کا دورہ چل رہا ہے ان کے جانے کے بعد ہی لاش کو دیا جائے گا. ہنگامہ بڑھا تو ڈاکٹر لاش غائب کرنے کا بھی الزام لگنے لگا.

 

میڈیکل کالج کے شعبہ اطفال وارڈ میں ہوئی بہت اموات کو دیر رات تک چھپائے رکھا گیا. یہی نہیں، وہاں کے ڈاکٹروں نے تيماردارو ں کو اندھیرے میں رکھا. ان کے بچوں کی موت ہونے کے بعد بھی ان کو دیکھنے تک نہیں دیا. یہ داستان سنتے ہوئے شکار لواحقین پھوٹ ۔پھوٹ رونے لگے. کہا، ‘تین دن ہو چکے ہیں میری بچی سے مجھے ملنے نہیں دیا گیا. پتہ نہیں وہ زندہ ہے کہ مر گئی. ڈاکٹر ہمیں اندر جانے نہیں دے رہے ہیں. ‘

شکایت کے بعد کیا مردہ قرار
شاہ پور تھانہ علاقہ کے بچھيا کی خوشی (5 سال) بیٹی محمد زاہد دماغی بخار وارڈ کے بخارات طبی پینل کے کیبن میں 38 نمبر بیڈ پر بھرتی تھی. دیر رات اس کی موت ہو چکی تھی. وینٹیلیٹر کے مانیٹر پر براہ راست لائن بنانے کے بعد بھی ڈاکٹر اس مردہ قرار نہیں دے رہے تھے. رشتہ داروں نے افسروں سے شکایت کی تو خوشی کو مردہ قرار دیا گیا. والد نے بتایا، کہ جمعہ کی دوپہر اب بیگ سے بیٹی کو مصنوعی سانس دینے کو کہا گیا تھا لیکن وہ اس کا مطلب نہیں سمجھ پا رہے تھے. الزام لگایا، کہ ‘4 گھنٹے پہلے ہی ان کی بیٹی کی موت ہو چکی تھی لیکن ڈاکٹر نے اسے نہیں بتایا. وہ اپنے کندھے پر بیٹی کی لاش لے کر چلا گیا. ایسی کئی اموات کو میڈیکل کالج انتظامیہ دیر رات تک چھپاتا رہا.

پولیس کا ڈر دکھا کر بھگانے کی کوشش کی
وہی، بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئی اموات پر ایک متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ ‘ہم آپ کے بچے کو بہار کے گوپال گنج سے لے کر آئے تھے. آکسیجن کی کمی ہونے سے ہمارے بچے کی موت ہو گئی. اسی طرح جتنے بچوں کی موت ہوئی ہے وہ سب آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے. متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ 32 بچوں کی نہیں، بلکہ 48 بچوں کی موت ہوئی ہے. جب ہمارا بچہ مرا تھا تو ہمیں پولیس کا ڈر دکھا کر بھگانے کی کوشش کی گئی. میں نے دیکھا رات میں جب آکسیجن ختم ہوا تو بچے تڑپ رہے تھے.