سکھ مخالف فسادات: بند معاملات کی جانچ ایس آئی ٹی سے ہو،سپریم کورٹ کا حکم

0
40

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو سکھ مخالف فسادات کے 186 بند معاملات کی تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں نئے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا. ان مقدمات کی تحقیقات اس سے قبل قائم کردہ SIT کی طرف سے بند کردی گئی تھی. چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم. خانیوالکر اور جسٹس ڈی. چندرچوڑ نے نئی ایس آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا جس میں ہندوستانی پولیس سروس کے موجودہ افسر اور ایک ریٹائرڈ افسر کو بھی شامل کیا جائے گا.

عدالت نے یہ حکم سپروائزر کمیٹی کی اس رپورٹ کے بعد دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے ایس آئی ٹی نے 241 مقدمات میں سے 186 مقدمات کو بغیر تحقیقات کے ہی بند کر دیا تھا.

ایک نئی ایس آئی ٹی کی صدارت کے لئے ہائی کورٹ کے سابق جج اور دو دیگر افسران کے نام جمعرات کو طے کئے جائیں گے.

سپریم کورٹ کے سابق ججز، جے ایم. پانچال اور . ایس رادھا کرشنن کی صدارت والی نگرانی کمیٹی ان 242 کیس کا جائزہ لے رہی تھی۔

1984 کے سکھوں کے فسادات ملک کے سکھوں کے خلاف تھے. ان فسادات کا سبب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا قتل تھا جو ان کے محافظوں کے ذریعہ کیا گیا تھا اور وہ سکھ تھے. اس کے جواب میں ملک کے کیہ شہروں بالخصوص دہلی،کانپور وغیرہ میں سکھوں کے خلاف فسادات کئے گئے۔ ان فسادات میں 3،000 سے زائد سکھ ہلاک ہوئے تھے.