اگسٹا ویسٹلینڈ گھوٹالہ: اٹلی کورٹ نے کہا – نہیں ہوا کرپشن ملزم بری

0
89

نئی دہلی: ملک کا سب سے عام گھوٹلا وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر اگستا ویسٹیلنڈ کیس میں اٹلی کور ٹ نے بڑا جھٹکا دیا. اٹلی کے ملٹری کور ٹ میں اگسٹہ ویلسٹینڈ اور فینمایکنیکا کے سابق چیف گیسپی اوسی، بچاؤلے کریسشن میکسیل، اگستا ویسٹینڈ کے سابق اعلی افسران گیووسیپ اورسی اور برونسو اسپینینولیہ سمیت تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے.

چھتیس سو کروڑ روپے ہیلی کاپٹر کا سودا اٹلی کی کمپنی اگستا ویسٹلینڈ سے ہوا. اٹلی میں عدالت کے فیصلے پر کل مقدمے کا فیصلہ ہوا اور اہم الزامات اور کمپنی کے بڑے افسران کو بری کر دیا گیا.
اٹلی کی ملٹری کور ٹ نے دو الزامات جی. اورسی اور برونو اسپاکگوینی کو ڈھونڈنے کے الزام میں ثبوتوں کی کمی میں بری کر دیا ہے. جی. اوسیسی فینمیکانیکا کے سابق صدر ہیں اور برونو اسپاکگوینی اگستا ویسلٹینڈ کی سابق سی ای او ہیں. یعنی جس پر رشوت دینے کا الزام تھا وہ بری ہو گئے ہیں.

اگسٹسٹ ویلسٹینڈ ہیلی کاپٹر کا 3600 کروڑ ڈالر کے معاملات میں اس وقت ائیرفورس چیف ایس پی ٹلیگی اور ان کے تین رشتہ دار بھی شامل ہیں. 6 افسران پر الزام لگایا گیا ہے. CBI 9 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر چکا ہے.
اٹلی میں فیصلہ کرنے کے بعد سی بی آئی کے ترجمان ابیچیک ڈیایل کا کہنا ہے کہ بھارت میں فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ تحقیقات کو آزاد طریقے سے کیا گیا ہے. سی بی آئی نے بیان کیا، ہم نے مکمل طور پر مختلف جانچ کی. ہمارے معاملے بہت مضبوط ہے. اوسیسی اور پرتگالینی کے خلاف مقدمہ 2012 میں اٹلی کے حکام نے ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد درج کیا. ‘اٹلی کے حکام نے بھارت کو 12 ہیلی کاپٹروں کی فروخت کے لئے 3600 کروڑ روپے کا معاملہ میں مبینہ کرپشن کی جانچ پڑتال کر رہے تھے.

پورا معاملہ
بھارت نے اٹلی ویلسٹینڈ کے شراکت دار فینمیکانیکا سے اٹلی کی کمپنی بنانے والے 12 VIP helicopter in 2010. اگسٹسٹ ویسٹینڈ ہیلسپٹر کے معاملات میں اسکٹالے کی بات سامنے آیا تھا. 3600 کروڑ روپے کا معاملہ 10٪ حصہ میں بروس دینے کا الزام لگا. الزام لگایا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کے لئے بھارتی حکام کو 360 کروڑ روپے بروس دیا گیا. گھوٹلا کی بات تو منموہن سنگھ حکومت نے بھی منظور کیا اور 2013 میں ڈیل کو اس وقت تک دفاع وزیر نے منسوخ کیا تھا.