مقدس گیتا ،چالیس روپئے قیمت مگر سینتیس ہزار کی ایک کاپی،گھوٹالے کا الزام

0
32

ہسار. بھارتی قومی نیشنل لوک دل (انویلو) ایم پی دویشانت چوٹلا نے پیر کو ہریانہ حکومت پرمذہبی کتاب گیتا کی خریداری میں گھوٹالے کا الزام لگایا ہے. جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چوٹالہ نے آر ٹی آئی نے معلومات کے حق کے ذریعے گیتا کا نسخہ خریدنے میں بد عنوانی کی ہے۔ انکے مطابق گیتا کی دس کاپیاں تین لاکھ انہتر ہزار 500 روپے میں خریدی گئی ہیں۔ یعنی ایک گیتا کی قیمت 37 ہزار روپے سے زیادہ ہے.

انہوں نے منہگی کتاب گیتا خریدنے پر سوال کیے ہیں جبکہ مارکیٹ میں اس میں بہت کم قیمت پر گیتا کی کتاب دستیاب ہے. انہوں نے کہا کہ پرگتی میدان میں چل رہے بین الاقوامی کتاب میلے میں تو گیتا پریس گورکپور والے 40 روپے میں ایک گیتا دستیاب کروا رہے ہیں جبکہ آن لائن پر گیتا کی کتاب 200 سے 300 روپے میں دستیاب ہے اور دیگر کئی قسم کی گیتا کی کتابیں کافی کم قیمت دستیاب ہیں.


انہوں نے ریاست حکومت سے پوچھا کہ گیتا کی اس کتاب میں کیا تھا جس کے لئے اتنی ہی بڑی قیمت ادا کی گئی ہے. چوٹلا نے الزام لگایا کہ ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا کم قیمت پر مارکیٹ میں دستیاب ہے، لیکن حکومت نے آستھا کے نام پر لاکھوں روپے ادا کرکے گیتا کی کاپیاں خریدیں.

ظاہر ہے کہگیتا کی خریداری میں نہ صرف بھاری غلطیوں کا سبب بن گیا بلکہ عوام کے خون پسینے کی آمدی پانی کی طرح بہہ گئی. چوٹلا نے کہا کہ وزیر اعلی نے منوہر لال کھٹٹر کو اس معاملے میں آگے آنے سے نہ صرف جواب دینا چاہیئے بلکہ پوری خریداری کی جانچ کرنا چاہئے. انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس کی منصفانہ جانچ نہیں کرتی تو تو وہ گیتا مہتوس آرگنائز کی پوری خریداری کے عمل کی صورت میں سی اے جی کی سامنے رکیں گی.