نکسلیوں کی مدد کے الزام میں دہلی یونورسٹی کے پروفیسر سائیں بابا سمیت پانچ دیگر مجرم قرار

نئی دہلی: مہاراشٹر کے گڑھچرولي کی عدالت نے دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کے پروفیسر جيین سائیں بابا سمیت پانچ دیگر کو نکسلیوں کی مدد کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے. گڑھچرولي کی عدالت نے جيےن سايبابا سمیت پانچ افراد کو يوےپيے ایکٹ کے تحت مجرم ٹھہرایا ہے.

sai baba
غور طلب ہے کہ سال 2013 میں انٹیلی جنس معلومات کے بعد هیممشرا اور پرشانت راہی کو گڈھچرولي میں گرفتار کیا گیا تھا. اس وقت پولیس نے کہا تھا کہ ان کے پاس سے جو کچھ دستاویزات اور مائیکرو چپ برآمد ہوئے ہے ان کی جانچ سے پتہ چلا کہ یہ دونوں ابوجماڈ میں سینئر ماؤنواز رہنماؤں سے ملنے جا رہے تھے. یہ ملاقات سائیں بابا کی مدد سے طے ہوئی تھی.

سائیں بابا کے گھر سے ضبط کئے تھے کاغذات
بعد میں گڈھچرولي پولیس کی ایک ٹیم نے ستمبر 2013 میں دہلی جاکر سايبابا کے گھر کی تلاشی لی. ان کے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سمیت دیگر کاغذات ضبط کئے تھے. تاہم پروفیسر سائیں بابا جسمانی طور پر معذور ہیں. وہ وہیل چیئر پر انحصار کرتے ہیں اس لیے انہیں اس وقت گرفتار نہیں کیا گیا تھا.

sai baba

کورٹ میں دائر کی تھی چارج شیٹ
اس کے علاوہ هیممشرا اور پرشانت راہی سے پوچھ گچھ کے بعد گڈھچرولي پولیس نے اهےري کورٹ میں تینوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی. بعد میں وہ بھی پولیس کی گرفت میں آئے گئے تھے.

sai baba