عراقی ملیشیا کا امریکی بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی

0
1

دبئی؛عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ عراقی وزیراعظم اور وائیٹ ہاؤس کی جانب سے دونوں رہ نماؤں کےدرمیان ہونے والی بات چیت کی الگ الگ تفصیلات جاری کی ہیں۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق عراق کے وزیراعظم العبادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی یا عالمی تنازع کا حصہ بن کراپنے اور خطے کے لیے مسائل پیدا نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا تاہم عراق کسی عالمی یا علاقائی تنازع میں نہیں الجھے گا۔
ادھر وائیٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور العبادی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہ نماؤں نے خطے کے لیے ایرانی خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم العبادی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کے بعد عراق کی ایک شیعہ عسکری تنظیم یمن کے ساحلوں میں موجود امریکی بحری جنگی جہازوں کو حملوں کانشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
شیعہ ملیشیا ابوالفضل العباس کے رہ نما اوس الخفاجی نے ایک دھمکی آمیز بیان میں کہا کہ ’ہم آ رہے ہیں، مزاحمت آر ہی ہے اور اب تمہارے[امریکی] جنگی جہازوں کی خیر نہیں‘۔

عراقی شیعہ ملیشیا کی دھمکی وزیراعظم العبادی کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ الخفاجی کے بندے سے چندے قبل وزیراعظم حیدرالعبادی نے امریکی صدر سے ٹیلیفون پربات کرتے ہوئے ایرانی دباؤ میں نہ آنے کا عندیہ دیا تھا جب کہ کچھ ہی دیر بعد ابو الفضل العباس ملیشیا کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا کہ عراق ایرانی مطالبات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ نیز عراقی حکومت شیعہ ملیشیاؤں کو شام یا کسی دوسرے ملک میں کارروائیوں سے منع نہیں کر سکتی۔