پاکستان میں داعش کا اثر بڑھ رہا ہے: رپورٹ

0
33
India 68 supporters of isis

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) کی جانب سے پیش کردہ ’پاکستان سیکیورٹی رپورٹ – 2017‘ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کا اثر پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔

 

پاکستان تھنک ٹینک کی جانب سے جاری اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کی 6 بڑی کارروائیاں ہوئیں، جن میں 153 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

پی آئی پی ایس کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ کو مختلف ذرائع، انٹرویوز اور تحاریر کے ذریعے تیار کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ داعش پاکستان میں خصوصاً شمالی سندھ اور بلوچستان میں اپنے قدم جما رہی ہے۔

پی آئی پی ایس کے سینئر پروجیکٹ منیجر محمد اسماعیل خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال داعش نے 6 خطرناک دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین عبد الغفور حیدری کی گاڑی پر حملہ، سہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملہ، لسبیلہ میں شاہ نورانی کے مزار پر حملہ، کوئٹہ میں چرچ حملہ، فتح پور میں درگاہ پیر رکھیال شاہ پر حملہ اور دو چینی باشندوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے کیوںکہ مستقبل میں ممکن ہے کہ یہ غیر ملکی جنگجو مشرق وسطیٰ کے بعد پاکستان کو اپنا نشانہ بنائیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ سال سے دہشت گردی کے واقعات میں 16 فیصد کمی آنے کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ ہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) بھی ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔


رپورٹ کے مطابق سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے شمالی علاقوں میں داعش تیزی سے قدم جما رہی ہے جہاں دونوں ہی صوبوں میں خطرناک ترین حملوں کی ذمے داری دیہشت گرد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی۔

رپورٹ میں انسداد دہشت گردی منصوبے پر نظر رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں کو تجویز دی گئی کہ ان حقائق کی روشنی میں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر نظرثانی کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2017 میں دہشت گردوں، باغیوں اور فرقہ واریت پھیلانے والی تنظیموں کی جانب سے 64 اضلاع میں 370 دہشت گردی کے واقعات سامنے آئے جن میں 24 خود کش دھماکے شامل ہیں۔

مذکورہ واقعات میں 815 افراد ہلاک اور 1 ہزار 736 زخمی ہوئے تھے، ان اعدادو شمار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی۔

ان حملوں میں سے 213 حملے ٹی ٹی پی، اس کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرار اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کیے گئے جس میں 186 افراد ہلاک ہوئے۔