بی ایس پی: تین طلاق کی پابندی پر متفق، لیکن بل کی دفعات منظور نہیں

0
119

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے تین طلاق پر پابندی سے اتفاق کیا ہے پر بل کی دفعات پارٹی سربراہ مایاوتی کو منظور نہیں ہیں. انہوں نے راجیہ سبھا میں مجوزہ مسلمان عورت شادی کے حقوق کے تحفظ بل- 2017 کو شدید غلطیوں اور کوتاہیوں والا بل قرار دیا ہے. واضح ہے کہ اگر یہ بل موجودہ شکل میں پاس ہوجاتا ہے اور قانون بن جاتا ہے تو اس کا سبب بن جائے گا کہ مسلم خواتین کو دوہرے ظلم کا سامنا کرنا پڑے گا۔. ان کی اپنی دلچسپیوں کے بجائے یہ نقصان دہ ہوگا.

مایوتی نے جمعہ (05 جنوری) کو جاری ایک بیان میں کہا کہ پارٹی تین طلاقوں پر پابندی سے متعلق قوانین سے اتفاق کرتی ہے. لیکن موجودہ بل میں سزا کا حکم طلاق شدہ مسلم خواتین کے لئے زیادہ خراب ہے. یہ ان کے لئے نئے مسائل پیدا کرے گا. یہ ان کی زندگی کو زیادہ مشکل بنا دے گی اور استحصال کا شکار ہو جائے گا. مودی حکومت کو ان معاملات کو کھلے دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہئے. اس سلسلے میں، بحث کرنے کے لئے راجیہ سبھا کی سلیکٹ کمیٹی کو بل بھیجنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

قانون بنانے سےپہلے، ہوم ورک نہیں،نیت صاف نہیں
مایوتی نے کہا، “قانون بنانے سے پہلے حکومت نے کام نہیں کیا. بلکہ، جلدی میں بھی نظر آئی، مخالف حزب اختلاف نے کچھ مشورے بھی پیش نہیں کئے ہیں. یہ ان کی غلطی نہیں تھی، لیکن انہوں نے ان کے ارادے میں جھوٹ دکھایا. دراصل، مودی حکومت من مانی کی عادی بن چکی ہے. ‘

بی ایس پی سپریمو آگے بولیں، ‘چاہے نوٹبندي کا نادان فیصلہ ہو یا جلدبازی میں جی ایس ٹی ٹیکس کا نیا قانون لایا گیا ہو. اب تین طلاق کے اہم معاملے میں بھی مودی حکومت کے اڑیل رویہ کی وجہ سے نئے نظام عوام کے لئے جی کا جنجال ثابت ہوئے ہیں. ‘

بی جے پی کی کوشش کرنا چاہتا ہے
مایاوتی نے کہا، کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت اپنی مسلم مخالف پالیسی اور حرکت کی وجہ سے پورے معاشرے کو مشتعل کرنا چاہتی ہے تاکہ یہ معاملہ بھی ہندو مسلم بن جائے اور بی جے پی اپنی سیاسی و انتخابی مفاد کی روٹی سیكتي رہے. اگر حکومت کی نیت صاف ہوتی تو یہ بل پرور کمیٹی کو بھیج کر بہتر بل تیار کرنے کے معاملے میں سجھداری نہ ہی اس کیس میں پارلیمنٹ کا اتنا وقت ضائع ہوتا. ‘