بی ایس پی اب تک کے سب سے برے دور میں، مایاوتی کے لئے راجیہ سبھا کے راستے ہو سکتے ہیں بند

0
7

لکھنؤ: سیاست میں اپنے بدترین دور سے گزر رہیں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی کے لئے اب راجیہ سبھا کے راستے بھی بند ہو سکتے ہیں. رجحانات مایاوتی کی پارٹی کو محض 20 سیٹ دینے کا ہی اشارہ دے رہے ہیں.

مایاوتی کا راجیہ سبھا کی مدت 2 اپریل 2018 کو ختم ہو رہا ہے. اس کے علاوہ 9 دیگر لوگوں کا دور بھی اسی تاریخ کو ختم ہو گی، جس میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) 6، بی ایس پی کے 2 اور کانگریس، بی جے پی کے ایک ایک رکن ہیں.

ان کا دور اقتدار اگلے سال ختم ہو رہا
راجیہ سبھا سے سماج وادی پارٹی کے كرنمي نندا، فلسفہ سنگھ یادو، نریش اگروال، جیا بچن، منور سلیم اور آلوک تیواری کے علاوہ بی ایس پی کی مایاوتی، منكاد علی، بی جے پی کے ونے کٹیار اور کانگریس کے پرمود تیواری کی مدت اگلے سال 2 اپریل کو ختم ہو رہا ہے.

بتا دیں کہ یوپی اسمبلی کی 403 رکن تعداد کے مطابق راجیہ سبھا میں کسی رکن کو جیت کے لئے 41 نشستوں کی ضرورت ہو گی.

بی جے پی رہے گی سب سے آگے
اس معاملے میں اب بی جے پی سب سے آگے رہے گی. وہ اپنے کم از کم 7 ارکان کو راجیہ سبھا بھیج سکتی ہے. پھیری ہو تو یہ تعداد 8 بھی ہو سکتی ہے. جبکہ ایس پی کسی کی مدد سے اپنے دو اراکین کو ایوان بالا میں پہنچانے میں کامیاب رہ سکتی ہے.