سنبھلے مودی جی، کسان تحریک آپ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے

0
250
Vinod Kapoor

ونود کپور

لکھنؤ: مرکزی حکومت کی اکثر تنقید سے بچنے والے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کسان تحریک کو لے کر نریندر مودی پر 12 جون کو بڑا حملہ بولا. نتیش نے کہا، ‘مرکزی حکومت خاص طور پر نریندر مودی نے کسانوں سے کیا وعدہ نہیں نبھایا.’

نتیش بولے، ‘2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وعدہ کیا تھا، کہ کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت دیا جائے گی۔ لیکن تین سال سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد بھی مرکزی حکومت نے اس سمت میں کچھ بھی نہیں کیا ہے. ‘

کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی
کسانوں کی قرض معافی کی آگ اب مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو کے علاوہ اب ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی پھیلنے لگی ہے. اسی معاملے پر نتیش کمار خاموش نہیں رہ سکے. نتیش بولے، ‘مرکزی حکومت نے کسانوں سے کیا وعدہ نہیں نبھایا. کسانوں کو فصل کی مناسب قیمت نہیں ملا رہا ہے. یہ حکومت کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی ہے. ‘

nitish kumar

بنے قومی پالیسی
بہار کے وزیر اعلی نے کسانوں کے لئے قومی سطح پر پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا. ملک میں کسانوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کے اخراجات کی قیمت تک کھیتی سے نہیں نکل پا رہے ہیں. كرجماپھي کے اعلان سے کسانوں کا بحران ختم نہیں ہو گا. نتیش یہیں نہیں رکے انہوں نے کہا، ‘جب یہی (بی جے پی) پارٹی اپوزیشن میں تھی تو کہتی تھی آج آسام میں کسانوں پر گولی چلی، تو آج فلاں ریاست میں کسانوں کی تحریک کو کچلا جا رہا ہے. آج خود یہ پارٹی اقتدار میں ہیں تو ملک کے عوام دیکھ رہی ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں. ‘

د س دن کے کسان سڑک پر 
گزشتہ 10 دنوں سے مہاراشٹر-مدھیہ پردیش کے کسان کھیتی چھوڑ کر سڑک پر تحریک کر رہا تھا. جن فصلوں کو پسینہ بہا کر اپجايا اسے اپنے ہاتھوں سے سڑک پر برباد کرنے کے لیے کسان مجبور ہوئے. کسانوں کی شکایت تھی کہ انہیں ایک تو فصل کی صحیح قیمت نہیں ملتی، دوسرے قرض کا بوجھ انہیں جینے نہیں دے رہا.

nitish kumar

نتیش کی بات میں دم تو ہے
ویسے، نتیش کی بات صحیح ہے کہ کسانوں کی قرض معافی سے کچھ نہیں ہو گا. وہ مرکز میں ایک سال سے زیادہ وقت تک وزیر زراعت بھی رہ چکے ہیں. نتیش اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرض معافی کا فوری فائدہ تو کسانوں کو مل جاتا ہے لیکن بعد میں حالات جوں کے توں ہو جاتی ہے. مرکزی حکومت بینک کے ہی قرض معاف کرتی ہے لیکن ساہوکاروں سے لئے قرض کا کیا؟ جو سورسا کے منہ کی طرح پھیلتا ہی جاتا ہے.

کسانوں پر آل راؤنڈ مار
قرض معافی سے ریاست سركرو پر بھی اقتصادی بوجھ بڑھتا ہے. دوسری طرف، مرکزی حکومت اس کی تلافی کے لئے کسانوں کو دینے والی خصوصیات کاٹ کر دیتی ہے. آبپاشی کے منصوبے رک جاتی ہیں. بنیادی خصوصیات میں کمی ہوتی ہے. آزادی کے 70 سال بعد بھی ملک کے کسان کھیتی کے لئے برسات پر ہی انحصار کرتے ہیں. ابھی تک 50 فیصد کھیتوں کو بھی سیراب دستیاب نہیں ہے. لہذا زیادہ برسات یا خشک ہونے پر اس کی فصل برباد ہو جاتی ہے.

اس صورت میں بھارت اکلوتا متحدہ
بھارت ایک ایسا ملک جہاں اتپادنكرتا کسان کو اپنی فصل کی قیمت طے کرنے کا حق نہیں ہے. گھر میں پلاسٹک کا چھوٹا سا فیکٹری لگانے والا کوئی بھی شخص آپ کی مصنوعات کی قیمت خود طے کرتا ہے، لیکن کسانوں کو یہ حق نہیں ہے.

بندیل کھنڈ-ودربھ جیتا جاگتا مثال
مرکزی حکومت ہر چار پانچ سال میں کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کرتی ہے. اس کے باوجود قرض میں ڈوبا کسان اپنی بیوی کو بےبا اور بچوں کو یتیم چھوڑ کر مجبور ہوتا ہے. یوپی کا بندیل کھنڈ اور مہاراشٹر کا ودربھ علاقہ اس کی مثال ہے جہاں ہر سال قرض میں ڈوبے کسان خودکشی پر مجبور ہوتے ہیں.

یہ آگ یوپی کی لگائی ہوئی ہے
مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں کسانوں کی تحریک کی آگ یوپی کی لگائی ہوئی ہے. یوپی میں اسمبلی انتخابات میں
پی ایم نریندر مودی نے کسانوں سے قرض معافی کا وعدہ کیا تھا. انہوں نے انتخابی جلسوں میں کہا تھا کہ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی پہلی کابینہ اجلاس میں کسانوں کے قرض معافی کا اعلان گے.

nitish kumar

کسانوں نے ان وعدے پر بھروسہ کیا اور ووٹوں کی برسات کر دی. بی جے پی کی حکومت بھی بن گئی. چونکہ، وعدہ پی ایم کا تھا لہذا کابینہ کی میٹنگ 15 دن بعد بلائی گئی جبکہ روایت کے مطابق حکومت کی تشکیل کے دن ہی کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے. کابینہ اجلاس میں کسانوں کے ایک لاکھ روپے تک کے قرض معاف کر دیے گئے. یوپی میں قرض معافی کے اعلان کے بعد مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں کسانوں کی تحریک شروع ہو گیا. یہ تمل ناڈو میں پہلے سے چل رہا تھا. وہاں کے کسانوں نے جنتر منتر پر عریاں ہوکر مظاہرہ بھی کیا تھا.

مدھیہ پردیش میں زراعت نمو 10 گنا زیادہ
مدھیہ پردیش ملک کا پہلا ایسا ریاست ہے جہاں زراعت نمو 20 فیصد ہے. جبکہ پورے ملک میں یہ اوسط 2 فیصد رہا ہے. مدھیہ پردیش اس کے لئے پانچ بار اجروثواب بھی ہو چکا ہے.

سیاسی دکان کھلی
مدھیہ پردیش میں تحریک چلا رہے کسانوں پر پولیس فائرنگ میں پانچ کی موت کے بعد سیاسی دکان بھی فورا کھل گئی. گندم اور چنے کے پودے کو درخت کہنے والے کانگریس نائب صدر مردہ کسانوں کے خاندان والوں سے ملنے کو اتنا آتر ہو گئے کہ دہلی سے ادیپر چارٹر جہاز سے گئے. وہاں سے سڑک کے ذریعے مدھیہ پردیش میں داخل ہوئے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندسور گئے. راہل نے کہا، ‘مودی صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کرتے ہیں لیکن اس کے لئے کسانوں پر گولیاں چلواتے ہیں.’ راہل یہ بولنے کے پہلے بھول گئے کہ منموہن سنگھ کی 10 سال کی حکومت میں بھی صنعت کاروں کے پانچ لاکھ کروڑ سے زیادہ کے قرض معاف ہوئے. مفرور وجے مالیا کو بھی یو پی اے کی حکومت کے دوران ہی بینک سے قرض ملا تھا.قرض معافی ٹھیک نہیں

nitish kumar

زراعت کے ماہر بہار کے ابھئے کمار سنگھ اسے درست نہیں مانتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں الیکشن جیتنے کے لئے قرض معافی کا وعدہ کر دیتے ہیں، یا وعدہ پورا نہیں ہوتا. اگر ہوتا ہے تو مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر اقتصادی بوجھ بڑھ جاتا ہے. یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور کسان ہر الیکشن کے بعد تحریک کے لئے سڑکوں پر اترتا ہے. جس سیاسی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو تشدد کو ہوا دیتے ہیں. مدھیہ پردیش میں یہ صاف دیکھنے کو ملا.

نتیش کی صلاح پر توجہ دے مرکز
نتیش نے مودی کو کسانوں کے لئے قومی پالیسی بنانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ان کو فصل کی واجب قیمت مل سکے. نتیش اب تک مودی کی پالیسیوں پر تنقید سے گریز کرتے رہے ہیں. انہوں نے تو نوٹبندي سے لے کر جی ایس ٹی تک مرکز کی پالیسی کی حمایت کی. جی ایس ٹی پر دستخط کرنے والا بہار ملک کی پہلی ریاست بنا تھا. اس کے علاوہ بجلی کی یکساں شرح کو لے کر عروج منصوبہ پر دستخط کرنے میں بہار سب سے پہلے آگے آیا.

nitish kumar

قابل ذکر ہے کہ کسی بھی ملک میں کسانوں کی تحریک وہاں کی حکومت کے لئے پریشانی کا سبب رہی ہے. مرکز کے اچھے کام کو کسانوں کی تحریک کو فلیتہ لگا سکتی ہے. لہذا نتیش کے مشورے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے.