بوچر خانوں پر تو خوب بولے یوگی، بچوں کے ‘قتل خانہ’ پر پلٹی ؟

0
129
Vinod Kapoor

ونود کپور

لکھنؤ: گورکھپور کے بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں بچوں کی آکسیجن کی کمی سے ہوئی موت کسی بھی حکومت کے لئے ایک بدنما داغ ہے. کوئی بھی ذمہ دار حکومت ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرتی ہے لیکن سالوں بعد یوپی کی اقتدار میں آئی بی جے پی حکومت ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے.

تمام طریقہ یہ صاف ہو گیا کہ اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے بچوں کی سانسیں اکھڑ گئی لیکن حکومت نے اس معاملے میں لیپا پوتی شروع کر دی ہے. حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں، کہ دو دن میں 48 بچوں کی موت آکسیجن کی کمی سے ہوئی ہے. بچوں کی اکھڑی سانسوں پر حکومت نے اعداد و شمار سے بتا دیا کہ اگست کے مہینے میں اوسطا ہر روز 10 سے 11 بچے مرتے ہیں. حد تو تب ہو گئی جب پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ہلاکتوں کی وجہ گندگی کو بتایا.

حالیہ سالوں میں نہیں ہوا ایسا واقعہ
حکومت نے اپنی غفلت اور نادانی سے اپوزیشن کو بھی بڑا موقع دے دیا ہے. حالیہ سالوں میں کسی سرکاری اسپتال میں ایسا واقعہ نہیں ہوئی کہ آکسیجن کی کمی سے بچے مر جائیں.

پارلیمنٹ میں خوب گرجنے والے یوگی اب چپ کیوں؟
دراصل، جاپانی یا گردن توڑ بخار کو لے کر گورکھپور گزشتہ 30 سال سے بحث میں ہے. ہر سال اس بیماری میں مبتلا بچے یہاں آتے ہیں. بہار اور نیپال کے بچوں کو بھی یہیں آنا پڑتا ہے. سی ایم آدتیہ ناتھ جب تک گورکھپور کے ایم پی رہے بچوں کے گردن توڑ بخار کے بارے میں مسلسل بیان دیتے رہے تھے. یہاں تک کہ لوک سبھا میں بھی ان میں زیادہ تر سوالات آپ علاقے کی اس مسئلہ کو لے کر ہی رہتے تھے، لیکن کیا وزیر اعلی بننے کے بعد یہ بیماری ان کی ترجیح سے ہٹ گئی ہے؟

اپنا دامن پاک صاف کرنا چاہتی ہے حکومت
یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت گورکھپور کی دردناک واقعہ کے بعد معاملے کی لیپا پوتی میں مصروف ہے اور اپنا دامن پاک صاف کرنا چاہتی ہے. یوپی کے وزیر صحت سددھارتھ ناتھ سنگھ نے ہفتہ (12 اگست) کو پریس کانفرنس کر کہا، کہ ‘ہماری حکومت ذمہ دار ہے ہر پہلو کو قریب سے دیکھا اور اس کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے. سی ایم یوگی نے 9 جولائی کو بی آر ڈی میڈیکل کالج آئے تھے سب تفصیل سے بحث کی تھی لیکن گیس سپلائی کا موضوع کسی نے سامنے نہیں رکھا تھا. ‘بتا دیں، کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بہار نیپال سمیت دیگر جگہوں سے مریض آتے ہیں. ہماری حکومت ذمہ دار ہے. حکومت نے بی آر ڈی کالج کے پرنسپل کو معطل کر دیا ہے.

اپوزیشن کو ملا بڑا مسئلہ
بچوں کے موت کی خبریں جمعہ کی شام سے آنا شروع ہو گئی تھیں. پہلے یہ تعداد 7 بتائی گئی، جو رات ہوتے ہوتے 30 اور ہفتہ کی صبح تک 48 تک پہنچ گئی. کانگریس کے غلام نبی آزاد اپنے عملے-قوت کے ساتھ میڈیکل کالج میں ماسک لگا کر آئے. ان کے ساتھ اسپتال آئے تمام لوگوں نے ماسک لگائے تھے تاکہ کوئی بیماری نہ لگ جائے گی یا کسی طرح کا انفیکشن نہ ہو جائے گا. سیاسی انکوائری کہیں سا بیان بازی کو لے کر سب سے پہلے کانگریس کے لیڈر ہی گورکھپور کے میڈیکل کالج آئے. اس کے بعد آیا سماجوادی پارٹی کا سلسلہ جس کی قیادت اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما رام گووند چودھری کر رہے تھے.

ستیارتھی کا تبصرہ اہم
سیاسی لوگوں کے بیان تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن ان میں سب سے اہم تبصرہ میگسیسے انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کا تھا۔. انہوں نے کہا ‘کیا بچوں کے لئے بھارت کی آزادی کے 70 سالوں کا مطلب یہی ہے؟’ انہوں نے کہا کہ طبی میدان میں دہائیوں سے چل رہے بدعنوانی کو ختم کیا جانا چاہئے. ستیارتھی نے لکھا، ’30 بچوں کی موت کوئی ‘حادثہ’ نہیں بلکہ ‘اجتماعی قتل’ ہے. ‘سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا، کہ اگر یہ المناک واقعہ ان کے دور میں ہوا ہوتا تو بی جے پی طوفان کھڑا کر دیتی. بی جے پی حکومت اب بھی سچ نہیں بتا رہی ہے.

مجبور ہوکر بس دیکھتا رہا
وہیں، جن بچوں کی موت ہوئی ان تيماردارو کا کہنا تھا، کہ وہ اپنے بچوں کو آکسیجن کی کمی سے تڑپتا اور موت کے منہ میں جاتا دیکھتے رہے لیکن مجبور تھے. کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں تھا اور نہ ان کی کوئی سننے والا تھا. کہتے بھی کس سے، کوئی سننے والا نہیں تھا. بچوں کی موت کے بعد بھی لاش نہیں دیا جا رہا تھا.

یہ ٹھیک ہے کہ ریاست میں غیر قانونی بوچر خانے بند کئے جائیں، لیکن سرکاری اسپتال جو بچوں کے قتل خانہ بنے ہوئے ہیں. ان پر حکومت کی توجہ کیوں نہیں گیا. حکومت کسی کی ہو آپ ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی. خاص طور پر اس پارٹی کے لئے جو خود کو سب سے زیادہ محب وطن اور حساس بتاتی ہو.