ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی شکایات پرالیکشن کمیشن کا ٹکا سا جواب ہم سے نہیں عدالت میں کریں شکایت

0
9

نئی دہلی: پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بہتر پوزیشن خاص طور پر یوپی میں کرور اکثریت کے بعد سے اپوزیشن پارٹیوں نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی شکایت کی ہے. بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے انتخابات کے نتائج والے دن ہی اس معاملے پر کھل کر اپنی بات رکھی تھی. انہوں نے اپنی پارٹی کی شکست کا ٹھیکرا وی ایم پر ابلنا. اس کے بعد اروند کیجریوال نے بھی بدھ (15 مارچ) کو وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی بات کہی.

evm

انتخابی نتائج میں شکست کے بعد ہی اس معاملے پر سیاسی طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا. ایک کے بعد ایک اپوزیشن پارٹیوں کے وی ایم کو لے کر لگائے جا رہے الزامات پر الیکشن کمیشن بھی اب سخت موقف اپنا لیا ہے. الیکشن کمیشن کے اعلی سطحی ذرائع نے صاف کیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اب VVPAT تخم کی گنتی کا سوال ہی نہیں اٹھتا. کمیشن اب اس پر کچھ نہیں کرے گا. کمیشن نے شکایت کرنے والوں کو عدالت میں عرضی دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے.

evm

اب عدالت ہی نکال سکتا ہے تشخیص
اس پورے معاملے پر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ VVPAT تخم مکمل طور پر محفوظ طریقے سے سنبھال کر رکھی گئی ہیں. اب صرف عدالت کے حکم پر ہی ان کی گنتی ممکن ہو سکتی ہے. کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل مکمل ہونے کی تفصیلی رپورٹ صدر کو سونپ چکے ہیں.

٢٠٠٩سے اب تک 5 بار تبدیلیاں
اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے ٹیکنالوجی ماہرین کی رائے میں سال 2009 میں سپریم کورٹ نے بھی مکمل سماعت کے بعد کہا تھا کہ ای وی ایم تکنیکی طور پر ٹےمپر ثبوت ہے. اگرچہ وہ وقتا فوقتا تکنیکی ترقی ضروری ہے. اسی وجہ سے 2009 کے بعد سے اب تک وی ایم میں پانچ بار بڑے بڑے تبدیلی کئے گئے ہیں.

evm