نوٹبندي پر مودی حکومت اور ریزرو بینک کے الگ الگ سروں سے آئی عام آدمی پر آفت

اوماکاننت لكھیڑا

نئی دہلی: ریزرو بینک کی جانب سے پیر کو پرانے نوٹوں میں 5000 سے زیادہ جمع کرانے والوں پر لگام لگانے کے بعد حکومت اور ریزرو بینک کے درمیان کئی طرح کے تضاد سامنے آ چکے ہیں. سابق وزیر خزانہ اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے آر بی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی نے جب 8 نومبر کو نوٹبدي کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے ہم وطنوں کے سامنے بڑے پرانے نوٹوں کو بند کرنے کی ایک کی کارروائی کا انکشاف کیا تھا.

وزیر اعظم نے ملک کے نام جو خطاب دیا تھا اس کے بارے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 11 نومبر کو پریس کانفرنس کرکے تفصیل سے روڈ میپ بتایا تھا کہ 30 دسمبر تک لوگوں کو پرانے نوٹ کو ان کے پاس رکھے ہیں انہیں بینکوں میں جمع کرنے کا وقت مل جائے گا.

کیا کہتے ہیں سابق وزیر خزانہ پی چتبرم؟
-نوٹبندي کے بعد جب پورے ملک میں افرا تفری مچی تب چدمبرم نے یاد دلایا کہ جیٹلی نے ہم وطنوں کو بھروسہ دلایا تھا کہ انہیں جلد بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمام بینک 31 دسمبر تک کسی بھی مقدار میں بینکو میں نوٹ جمع کرنے کے بلا ہوں گے.

-سوموار کو  کے نئے حکم پر وزیر خزانہ جیٹلی نے کہا کہ ایک شخص 5000 سے زیادہ کی حد تک نوٹ جمع کر سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے ایک اکاؤنٹ ہولڈر کو ایک ہی موقع ملے گا.
-چدبرم نے کہا ہے کہ  جس طرح سے کام کر رہی ہے اور روز قوانین بدل رہی ہے اس سے دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک جلد بازی میں کام کر رہی حکومت اسی افراتفری میں روز روز قوانین بدل رہی ہے.

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بھی پیر کو آر بی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ اسی طرح اصول بدل رہی ہے جس طرح پی ایم مودی اپنے کپڑے تبدیل کرتے ہیں.

 دیگر جماعتوں نے بھی نوٹبندي کو بتایا  فیل
اہم بائیں پارٹی مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے بھی کہا ہے کہ مودی حکومت کی نوٹبدي کا شگوفہ اس فیل ہو چکا ہے کہ ملک میں جو بھی نوٹ مارکیٹ میں تھے، وہ سب کے سب بینکوں میں جمع ہو رہے ہیں، ایسی صورت میں مایوسی مٹانے کے لئے حکومت روج- مرہ قوانین تبدیل کرکے مکمل ورزش کو ایسا جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے کسانوں اور عام لوگوں، خاص طور پر غریبوں کو بہت تکلیف ہو رہی ہے.