… تو انتخابی مہم میں کچھ اس طرح مودی نے ایک ساتھ کھیلا ہندو اور جذباتی کارڈ

0
14
Vinod Kapoor

فتح پور: وزیر اعظم نریندر مودی نے 19 فروری (اتوار) کو فتح پور کی جلسہ عام میں لوگوں کو آمادہ کرنے کے لئے ہندو اور جذباتی کارڈ ایک ساتھ کھیل دیا. انتخابی جلسوں میں عام طور ہندو یا مسلمان بولنے کے اب تک گریز کرنے والے مودی نے کہا کہ اگر رمضان میں 24 گھنٹے بجلی ملتی ہے تو دیوالی میں بھی یہ ہونا چاہئے. امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے. اگر گاؤں میں قبرستان ہے تو شمشان بھی ہونا چاہئے. مذہب کے نام پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے.

مودی نے کہا انہوں نے سیاسی جماعتوں کے علاوہ کئی ایسے لوگوں سے دشمنی مول لی ہے. جو ملک کی غریب عوام کو لوٹ رہے تھے. مثال کے طور پر انہوں نے کینسر اور دل کی بیماری کی دواؤں اور یوریا کا ذکر کیا.

پی ایم بولے کہ کینسر کی دوا جو 3،000 روپے میں ملتی تھی، تفتیش کے بعد اس کی قیمت اب 70 سے 80 روپے كراوا دی گئی ہے. اسی طرح دل کی بیماری کی جو دوا 70 روپے میں ملا کرتی تھی، اب مارکیٹ میں 7 یا 8 روپے میں ملتی ہے. یوریا کی کالابازاری نہیں ہو، اس لیے اس پر نیم کی کوٹنگ کی گئی.

نیم کی کوٹنگ سے اس کالابازاری رک گئی. پہلے یوریا فیکٹری میں چلا جایا کرتا تھا اور کسانوں کو رات بھر لائین میں لگنے کے باوجود کھاد نہیں پولیس کی لاٹھیاں ملا کرتی تھیں. مودی نے کسانوں سے ایک وعدہ بھی کیا کہ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی کابینہ کی پہلی میٹنگ میں وہ کسانوں کی قرض معافی کا فیصلہ کروا دیں گے.

انہوں نے جن لوگوں کے منافع پر ڈاکہ ڈالا ہے وہ بہت طاقتور لوگ ہیں. وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں. اخبار، ٹی وی خرید سکتے ہیں. ایسے لوگوں کے پاس وسائل بہت ہیں. انہوں نے اجتماع میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ اب آپ بتائیں کیا ایسے لوگوں سے دشمنی کیا انہوں نے خود کے لئے مول لی ہے. اس کا جواب بھی خود دیا اور کہا کہ نہیں یہ دشمنی عوام کے لئے لی گئی ہے. کسانوں کے لئے لی گئی ہے.

بھی پڑھیں … ملائم کی بیوی بولي- مجھے سادھنا گپتا نہیں، یادو بولو، اکھلیش-علامت میری دو آنکھیں

مودی نے ملک کے لوگوں سے ایک سوال اور کیا کہ ایسے تاكتوار لوگوں سے ان کی ركشرا کون کرے گا. یہ سوال انہوں نے بار بار اٹھایا کہ ایسے لوگوں سے ان کی حفاظت کون کرے گا. عوام سے ہاں کا جواب ملنے کے بعد ہی وہ دوسرے معاملے پر آئے.