بابری مسجد کیس: سپریم کورٹ کے رخ سے اڈوانی-جوشی-بہبود کی بڑھ سکتی ہیں مشکلیں

0
11
1 of 4

نئی دہلی: ایودھیا میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گرائے جانے کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت 13 رہنماؤں کے خلاف رکا ہوا مقدمہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں چلایا جا سکتا ہے. سپریم کورٹ نے کہا، ‘محض ٹیکنیکل گراؤنڈ پر انہیں راحت نہیں دی جا سکتی ہے. اس سلسلے میں عدالت 22 مارچ کو اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے.

Ayodhya Babri Masjid

پیر (6 مارچ) کو ہوئی سماعت میں جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آرایف نریمن کی بنچ نے سی بی آئی اور حاجی محبوب احمد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 22 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے. اس درخواست کے ذریعے الہ آباد babri masjidہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے.

1 of 4