بہرائچ کے عبدالمنان کی خدمتیں آج بھی تازہ ہیں

0
83

بڑے بڑے کاموں کے لئے بھاری بھرکم جسم کا ہونا کوئی ضروری نہیں پچیس کلو وزن اور چالیس انچ طویل انسان، جس لوگ پیار سے حاجی مننا کہتے ہیں اس نے ایسی انسانی خدمت کی کہ اس باز گشت بہرائچ سے لے کر مکہ اور مدینہ تک سنائی دی.

 

bahraich

ہندوستان کی آزادی سے ایک سال پہلے 1946 میں پیدا ہوئے عبدالمنان عرف حاجی مننا بیٹے واجد حسین اپنے ماں – باپ کی سب سے چھوٹی اولاد تھے، ان کے گھر میں سب سے بڑی ان کی بہن زہرہ بیگم اور ان کے بھائی اقبال احمد بھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کے ایک اور بڑے بھائی اخلاق احمد عرف چھوٹی کو ڈیل – ڈول میں ان تھوڑا ہی بڑے ہیں وہ ابھی زندہ ہیں، من کے نام کے آگے 1978 میں حاجی جڑ گیا کیونکہ حاجی من پہلی بار 1978 میں اپنی خالہ بی بی اماں کے ساتھ حج کرنے گئے تھے تب سے اب تک وہ بار 17 حج کر چکے تھے لیکن 21 جنوری 2016 کی صبح مکہ شریف میں ان انتےكال ہو گیا تھا اور آج 4 بجے انہیں مکہ میں دفن کرنے کے بعد حج کرنے کا سلسلہ رک گیا.

 

 

بہرائچ ضلع کے قاضی پورا میں پیدا ہوئے حاجی مننا یوں تو کسی پارٹی کے رکن نہیں تھے لیکن سماج کی خدمت سے ان وابستگی کافی تھی۔ سن 1980 میں انہوں نے ایک بار دیکھا کی ایک لاش جس کا کوئی وارث نہیں اس کو پوسٹ مارٹم کے بعد دریا میں پھینکا جا رہا ہے، یہ واقعہ انہیں کافی عجیب لگا اور انہوں نے اسپتال کے اہلکاروں سے رابطہ کیا اور ان سے کہہ دیا کہ اب کسی بھی مسلم کی لاش جو لاوارث ہوگی وہ ہمیں سونپ دی جائے اور اس کا کفن – دفن ہم کریں گے، تب مسلمانوں کی لاشیں محکمہ صحت کو سونپنے لگا لیکن کبھی کسی نئے افسر کے آ جانے پر اگر انہیں لاش نہیں ملتی تو وہ اس کی شکایت بھی اعلی اہلکاروں سے کرتے، ان کا یہ کام ان کے نہ رہنے پر ان کے بھتیجے ذبیر اور ان کے ساتھی پیارے اور مبین آج بھی کررہے ہیں، لاشوں کی تدفین کے علاوہ منا غریب لڑکیوں کی شادی میں بھی مالی مدد کیا کرتے تھے، وہ اتنے سادہ مزاج تھے کی کوئی بھی ان کے کام کے لئے کہیں بھی لے جا سکتا تھا وہ خوشی – خوشی سب کے ساتھ جاتے بھی تھے.

 

 

سماج کی خدمت سے منسلک ہونے کی وجہ سے لوگوں نے انہیں 1989 میں قاضی وارڈ سےممبر کے لئے کھڑا کر دیا جس نے تاریخی جیت درج کی، حاجی مننا نے اپنے حریف کو 1556 ووٹوں سے شکست دی جو اس سال کا سب سے بڑا عدد تھا، اس طرح وہ 1989 سے 1994 تک میونسپلٹی کی زینت بڑھاتے رہے لیکن اس کے بعد انہوں نے سیاست کی طرف کبھی نہیں دیکھا.

 

 

bahraich2

حاجی مننا کے دوسرے حج کا قصہ کافی مشہور ہوا کیونکہ سن 1999 میں مننا کو حج پر جانے کی منظوری نہیں ملی تھی تب مننا اس وقت کے وزیر خارجہ رہے اٹل بہاری واجپئی کے پاس پہنچ گئے لیکن کسی نے انہیں اٹل جی سے ملنے نہیں دیا تب وہ وزارت خارجہ کے گیٹ کے باہر کھڑے ہو گئے اور جیسے ہی اٹل جی باہر نکلے وہ ان کی گاڑی کے دروازے میں لٹک گئے، اٹل جی نے گاڑی روكواي اور مننا کا ڈیل – ڈول دیکھ کر کافی متاثر ہوئے ساتھ ہی مننا حج پرجانے کے لئے اجازت دے دی،

 

 

اپنے دوسرے حج پر جانے سے پہلے 1995 سے 1999 تک مننا دہلی حج کمیٹی میں حاجیوں کی خدمت گزاری کے لئے رکن بھی رہے ہیں. لیکن 1999 کے بعد سے ان کے انتقال تک وہ مکہ اور مدینہ میں سال کے ٩ ماہ رک کر ہی حاجیوں کی خدمت کرتے تھے، ہر سال وہ حاجیوں کے ساتھ چلے جاتے لیکن واپس ٩ ماہ کے بعد صرف ٣ ماہ کے لئے بہرائچ آتے تھے، ان کے انتقال سے بہرائچ نے معاشرے کا ایک سچا خادم کھو دیا ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here