گوشت کھاتے ہوئے گنیش کو اشتہار میں دکھایا،ہندوستان کا اعتراض

0
107

کینبرا: بھارت نے کھانے کے ایک اشتہار میں گنیش جی کو گوشت کھاتے دکھایا گیا ہے،اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ آسٹریلیا کے سامنے سفارتی اعتراض پیش کیا ہے۔ آسٹریلیا کے سرکاری محکموں، فارین امور، کمیونی کیشنز اور یگریكلچر ڈپارٹمنٹ کو کینبرا میں واقع بھارتی ہائی کمیشن نے ‘گوشت اینڈ لاوسٹك آسٹریلیا’ کے متنازعہ اشتہار کو لے کر مذمتی خط بھیجتے ہوئے اس معاملے میں ایکشن لینے کو کہا ہے. خط میں کہا گیا ہے کہ اس اشتہار نے بھارتی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو نقصان پہنچایا ہے.

آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن نے کہا ہے، کہ ‘گوشت پیداواری گروپ’ گوشت اینڈ لاوسٹك آسٹریلیا ‘کا یہ اشتہار اشتعال انگیز ہے. اس اشتہار نے بھارتی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے.

یاد رہے حال ہی میں جاری کردہ ویڈیو میں، گنش کو دیگر مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ ایک میمنا کھاتے دکھایا گیا ہے. ہائی کمیشن نے بتایا کہ ‘ہندوستانی برادری اس بات کو لے ناراض ہے کہ گنیش جی کبھی گوشت خوری نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں کبھی گوشت چڑھایا جاتا ہے.’

بھارتی ہائی کمیشن نے بتایا کہ سڈنی میں بھارت کے قونصل جنرل سفیر نے اس معاملے کو براہ راست گوشت اینڈ لاوسٹك آسٹریلیا کے سامنے اٹھاتے ہوئے ان سے یہ اس اشتہار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے. بہت سے کمیونٹی تنظیموں نے آسٹریلوی حکومت اور ‘میٹ اینڈ لائیو اسٹاک آسٹریلیا’ کے خلاف بھی احتجاج کیا.

ہندو پریشد نے کہا، – بھونڈا اور بد ترین
آسٹریلیا کی ہندو پریشد نے میمنے کے گوشت کی کھپت کی بڑھانے کے لئے گنیش کی تصویر کے استعمال کو بھونڈا اور گھنونا بتایا ہے. وہیں، ‘گوشت ااشتہار لاوسٹك آسٹریلیا’ نے یہ کہتے ہوئے اس اشتھار کا دفاع کیا ہے کہ اس کے ذریعے ان کا مقصد اتحاد اور تنوع کو فروغ دینا تھا.

یہ اشتہار میں دکھایا گیا ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں گنش چورتھورتی کا جشن منایا گیا ہے. اس کے کچھ دنوں بعد ہی سامنے آئے اس متنازعہ اشتہار میں گنیش کے ساتھ عیسی مسیح اور گوتم بدھ سمیت کئی مذاہب کے نمائندے کھانے کی میز پر بیٹھے ہیں. کھانا کھاتے ہوئے یہ آپس میں باتیں کر رہے ہیں. انہی باتوں میں حضرت محمد کا ذکر بھی آتا ہے کہ وہ اس دعوت میں شامل نہیں ہو سکے.